ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مسلم جماعتیں ایک دو سرے پر گمرا ہی کا فتوی عائد کرنے کے بجا ئے با ہم دعوتی تعاون کریں تو اجتما عیت قائم ہوسکتی ہے ۔ڈاکٹر طاہر قمرکا خیال

مسلم جماعتیں ایک دو سرے پر گمرا ہی کا فتوی عائد کرنے کے بجا ئے با ہم دعوتی تعاون کریں تو اجتما عیت قائم ہوسکتی ہے ۔ڈاکٹر طاہر قمرکا خیال

Mon, 15 Jan 2018 19:41:12    S.O. News Service

مظفر نگر 15؍جنوری(شا ہد حسینی/ایس او نیوز)آج ملکی سطح پر ملت اسلا میہ کے حا لا ت بڑے ہی نازک دور سے گزر رہے ہیں حکو متی سطح پر کبھی طلا ق ثلا ثہ تو کبھی مدارس پر بد نظری لیکن کیا اس کو حقیقی طو ر پرحکو مت کا ظلم سمجھا جا ئے یا اپنی بد عملی اس پر غو ر کر نے کی سخت ضرورت ہے اسی سے متعلق آج قصبہ میرانپور سے مشہور ناظم مشاعرہ ڈاکٹر طا ہر قمر صا حب نے اپنے خیا لا ت کا اظہا ر کر تے ہو ئے کہا  کہ آج امت مسلمہ با الخصوص مسلمانان ہند وطن عزیز میں جن حا لا ت اور سا زشوں کا شکا ر ہیں اس سے یہ اندا زہ لگا پا نا مشکل نہیں کہ مستقبل قریب میں مسلمانوں کے لئے بہت مشکل وقت آنے وا لا ہے انہوں نے کہا کہ فر قہ پرست اور  اسلا م دشمن طا قتیں مسلمانوں کو زیر کر نے کے لئے جو ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے اس نے ذی ہو ش مسلم رہنما ؤ ں کی نیند اڑا دی ہے اگر پو ری ایماندا ری سے جا ئزہ لیا جا ئے تو یہ بات بہ آسا نی سمجھ میں آجاتی ہے کہ آج ہما رے اندر صرف اجتما عیت کا فقدان ہے بلکہ ہم مسلکی اختلا فات میں اس قدر اندھے ہو گئے ہیں کہ ایک دو سرے پر لعن طعن کر نے کے علا وہ ہمیں کچھ نظر نہیں آرہا ہے اتنا ہی نہیں ہم نے بڑی ہی سمجھدا ری سے خو د ہی اجتما عیت کو مسمار کر نے کا کام کیا ہے اور با طل پرست طا قتیں اسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر منظم ہو گئی ہیں اور ہمیں منتشر ہو تا دیکھ ہما رے خلا ف پو ری مضبو طی کے سا تھ سا زشیں کر نے میں مصروف ہیں

ڈاکٹر مو صوف نے اپنی گفتگو آگے بڑھا تے ہو ئے کہا کہ تا ریخ شا ہد ہے کہ جن قو موں نے اپنی تہذیبی روا یات کو فراموش کر ڈالا ،اپنی اجتما عیت کو پا رہ پا رہ کیا،وہ قو میں تباہ و بر باد کر دی گئیں اللہ رب العزت نے قرآن پا ک میں ارشاد فر مایا کہ اللہ کی رسی کو مضبو طی کے سا تھ پکڑ لو اور آپس میں انتشار نہ کرو جس سے صا ف ظا ہر ہو تا ہے کہ خدا وند قدوس اپنی رسی کو اجتما عی حیثیت کے ساتھ پکڑنے کی تلقین کر رہا ہے ڈاکٹر مو صو ف نے کہا کہ آج ہما را احساس قطعی طو ر پر مردہ ہو چکا ہے اور جس قو م کا احساس مر جا ئے  تو وہ تبا ہی کے کس خا نے میں جا کر گرے گا، اُس کے  تصور سے ہی دل لرز اٹھتا ہے ڈاکٹر موصوف نے ملت اسلا میہ سے مخا طب ہو کر کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اندر کے تمام اختلا فات کو با لا ئے طا ق رکھ کر اپنے آپ کو اللہ کے حو الے کر تے ہو ئے امت کو یہ یاد دلا ئیں کہ خدا نے ہمیں کس مقصد کے تحت دنیا میں بھیجا ہے اور جس دین سے ہما ری وا بستگی ہے وہ کن کن صفات کو اپنے ماننے وا لوں کے اندر پیدا کر نا چا ہتا ہے پہلے تو ہم ان صفات کو اپنے اندر پیدا کر یں اور دوسروں کو بھی اس طرف بلا ئیں مو صوف نے آخر میں ان افراد کو مخاطب کر تے ہو ئے کہا کہ  ملک میں اشا عت اسلام کا کام کر نے وا لی جما عتیں ایک دو سرے پر تنقید کر نے نیز ایک دو سرے پر گمرا ہی کا فتوی عا ئد کر نے کے بجا ئے با ہم دعوتی تعاون کریں تو اجتما عیت کو قائم کر نے کا خواب شر مندہ تعبیر ہو سکتا ہے اس سلسلے میں مخلصا نہ کو ششوں اور بے لو ث پہل کی ضرورت ہے جب مخلصا نہ کو ششیں ہو ں گی تو اللہ کی مدد بھی ضرور شامل ہوں گی اور اگر ہم یو نہی دست وگریباں رہے تو تا ریخ ہما ری تبا ہی کی دا ستان لکھنے کے لئے تیا ر ہے ۔
 


Share: